ایک غریب کی آہ ہلاکو خان کی عبرت ناک موت کی مکل داستان

ہلاکو خان کی عبرت ناک موت کی کہانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم معزز دوستو السلام علیکم:  ہلاکو خان 15 اکتوبر سن 1218ء  میں پیدا ہوا وہ الخانی حکومت کا بانی اور بد نام زمانہ ظالم ترین منگول حکمران چنگیز خان کا پوتا تھا۔ چنگیز خان کے بیٹے تولئی خان کے تین بیٹے تھے، ان میں ایک منگو خان تھا، جو کراکروہ میں رہتا تھا اور پوری منگول سلطنت کا خاہ قانےہ نے اعظم تھا دوسرا بیٹا قبلائی خان تھا جو چین میں منگول سلطنت کا بانی تھا، جبکہ تیسرا بیٹا ہلاکو خان تھا ہلاکو خان اپنے دادا چنگیز خان کی طرح انتہائی ظالم ترین حکمران گزرا ہے، جس نے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کی اور کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کر دیے، دوستو یوں تو ہلاکو خان کی پوری زندگی کی داستان ظلم اور بربریت سے بھری پڑی ہے، مگر آج ہم آپ کو وہ واقعہ سنائینگے، جب ہلاکو خان خود جہنم رسید ہوا، پوسٹ میں آگے بڑھنے سے پہلے اگر آپ ہمارے ویبسائٹ پر نئے ہیں تو برائے مہربانی سپوڑٹ کریں شکریہ

دنیا کا ظالم ترین اور وحشی انسان ہلاکو خان

دوستو:مورخین لکھتے ہیں کہ دنیا کا ظالم ترین اور وحشی انسان ہلاکو خان اپنے طاقتور ترین گھوڑے پر بڑی شان اور غرور سے بیٹھا ہوا تھا۔ چاروں طرف اس کی فوج تھی یعنی تاتاری افواج سب سے آگے ہلاکو خان کا گھوڑا تھا ہلاکو خان کے سامنے قیدی مسلمان پیش کئے گئے جو تین صفوں پر مشتمل تھے، ہلاکو خان نے فورا حکم دیا کہ سب کے سر قلم کر دو اور خود گھوڑے پر بیٹھ کر تماشہ دیکھنے لگاڈ ہلاکو خان کے ہاتھ میں ایک چھڑی پکڑی ہوئی تھی جسے اچھال کر وہ کھیل رہا تھا، اور مسلمانوں کے قتل عام کا تماشہ دیکھ رہا تھا۔یوں ہوا کہ ہلاکو خان کے وحشی جلاد مسلمانوں کی گردنیں کاٹ رہے تھے، تو ان میں ہلاکو خان کی نظر ایک ضعیف مسلمان بزرگ پر پڑی خوف سے کانپ رہا تھا تھا۔ جب اس بوڑھے کی باری آنے لگی تو وہ بھاگ کر دوسری صف میں چلا گیا۔ دوسری صف میں بھی جب اس بزرگ نے دیکھا کہ جلاد اس تک پہنچنے والے ہیں تو وہ بھاگ کر تیسری صب کے آخر میں کھڑا ہوگیا۔ سب مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا، اور بالآخر اس بوڑھے بزرگ کی باری آ گئی جیسے ہلاکو خان دیکھ رہا تھا، جلاد نے اس کی طرف تلوار تانی تو ہلاکو کی آواز آئی رک جاؤ، جلاد رک گیا ہلا کو خان نے اس ضعیف مسلمان بزرگ سے پوچھا، تم کیا سمجھتے تھے کہ میں بچ جاؤں گا، بتاؤ تلی صف سے بھاگ کر تیسری صف میں کیوں گئے، بزرگ کانپنے لگا اور کہنے لگا مجھے موت سے ڈر لگ رہا ہے۔

ہلاکو خان نے قہ قہا لگایا اور کہنے لگا کون ہے جو آج تجھے مجھ سے بچا سکتا ہے۔

اچانک بوڑھے بزرگ نے آسمان کی طرف نگاہ بلند کی، اور کہنے لگا وہی خدائے بزرگ و برتر اللہ رب العزت مجھے بچا سکتا ہے، یہ کہنا تھا کہ ہلاکو خان نے غرور اور تکبر سے جھڑی آسمان کی طرف اچھال دی اور واپس آتی جھڑی پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ پکڑ نہ سکا۔ وہ جھکا کہ جھڑی زمین پر گرنے سے پہلے پکڑ لوں مگر اس کا پاؤں رکاب سے نکل گیا۔ اور وہ گھوڑے سے گر گیا، مگر اس کا دوسرا پاؤں رکاب میں ہی پھنس گیا گھوڑا خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلا گویا اللہ رب العزت نے گھوڑے کو حکم دیا کہ بھاگ گھوڑا سرپٹ بھاگنے لگا۔

اور ہلاکو خان کو گھسیٹتے ہلاک کر دیا

اور وہ لہو لہان ہو گیا، اور اس کی روح چند منٹوں میں اس کے تکبر بھڑے وجود کو چھوڑ کر جہنم رسید ہو گیا، اگرچہ اس واقعہ پر تمام مورخین متفق نہیں ہے، مگر یہ دنیا کے ظالم حکمرانوں کے لئے عبرت ہے، کہ مظلوم کی آہ عثمان چیر کر خدائے واحد کی بارگاہ میں جاتی ہے، اور پھر پروردگار عالم تو بہترین تدبیر فرمانے والا ہے، اس سے طاقتور ہاتھی والوں کو معصوم ابابیلوں کے حالاک کروایا اور اسی نے خدائی کے دعویدار نمرود پر کمتر مچھرڑ مسلط فرمایا بادشاہ اور حکمران صرف وہی وحدہٗ لاشریک اللہ رب العزت ہے ۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے